بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسلمان کی حرمت و تعظیم کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں مسلمان کی حرمت و تعظیم کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1959 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ ، أَبَا زُرْعَةَ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَحَجَّاجٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"اسْتَنْصَتَ النَّاسَ"، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، ثُمَّ قَالَ: "لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جریر بن عبدالله البجلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع میں (ان سے) فرمایا: لوگوں کو خاموش کرو۔ (تاکہ وہ غور سے سنیں)، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد (پھر) کافر مت بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1959]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1963] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 121] ، [مسلم 65] ، [نسائي 4142] ، [ابن ماجه 3942] ، [ابن حبان 5940] ، [ابوعوانه 25/1] ، [البغوي فى شرح السنة 2550]
وضاحت
(تشریح حدیث 1958)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپس میں قتال و خون ریزی مسلمانوں کا نہیں کافروں کا شیوہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی ممانعت کی، مگر افسوس کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے چند سال بعد ہی فتنہ و فساد شروع ہو گئے جو آج تک مسلمانوں میں جاری ہیں، ایک فریق دوسرے فریق کے ساتھ خون کی ہولی کھیلتا ہے اور ناحق خونِ مسلم سے اپنے ہاتھ رنگتا ہے۔
«(أعاذنا اللّٰه من ذٰلك)» ۔
الحكم: إسناده صحيح