بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قربانی کا جانور جب مرنے لگے تو کیا کیا جائے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں قربانی کا جانور جب مرنے لگے تو کیا کیا جائے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1947 سنن دارمی
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ ، شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، نَاجِيَةَ الْأَسْلَمِيِّ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَاجِيَةَ الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنْ الْهَدْيِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كُلُّ بَدَنَةٍ عَطِبَتْ فَانْحَرْهَا، ثُمَّ أَلْقِ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ فَلْيَأْكُلُوهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ناجیہ اسلمی (خزاعی) رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہدی لے جا رہے تھے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ جو ہدی (قربانی کا اونٹ) مرنے لگ جائے تو کیا کروں؟ فرمایا: جو اونٹ بھی تھک کر مرنے لگ جائے اس کو ذبح کر دینا اور اس کی جوتی (جو نشانی کے طور پر گلے میں ڈال دی جاتی تھی) اس کے خون میں ڈبو دینا اور لوگوں کے لئے اسے چھوڑ دینا تاکہ وہ اسے کھا لیں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1947]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1951] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1762] ، [ترمذي 910] ، [ابن ماجه 3106] ، [ابن حبان 4023] ، [الموارد 976] ، [الحميدي 904]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1948 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، نَاجِيَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَاجِيَةَ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی سیدنا ناجیہ رضی اللہ عنہ سے حسب سابق روایت ہے۔ ترجمہ اوپر مذکور ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1948]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1952] »
تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1946 سے 1948)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہدی (قربانی کا جانور) اگر ہلاک ہونے لگ جائے تو اس کو ذبح کر دینا چاہئے اور نشانی کے طور پر اس کے جوتے اس کے خون میں ڈبو کر اس پر رکھ دینے چاہئیں تاکہ گزرنے والے لوگ پہچان لیں کہ یہ ہدی کا جانور ہے اور اس کو پکا اور کھا لیں، ہاں صاحبِ ہدی کو اس میں سے کھانا درست نہیں ہے، صاحبِ ہدی صرف قربانی کرنے کے بعد ہی کھا سکتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نشانی کے طور پر اپنے ہدی کے جوتے لٹکا دیئے تھے تاکہ معلوم رہے کہ یہ جانور قربانی کا ہے، کما سیأتی۔
الحكم: إسناده صحيح