بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
عورتوں کے اوپر بال منڈانا واجب نہیں ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں عورتوں کے اوپر بال منڈانا واجب نہیں ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1943 سنن دارمی
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ ، هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرٍ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ حَلْقٌ، إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر بال منڈانا (صحیح) نہیں ہے، ان پر صرف بال کترنا (واجب) ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1943]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1947] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ أبوداؤد 1984، 1985] ، [طبراني 13018] ، [مجمع الزوائد 5678]
وضاحت
(تشریح حدیث 1942)
عمرے اور حج میں عورت کے لئے بال منڈانا جائز و درست نہیں ہے، وہ صرف بال کتریں گی، ہر لٹ سے ایک پورٹے کے برابر، اس سے زیادہ چھوٹے بال کرنا بھی درست نہیں، بال عورت کی پہچان اور زینت ہیں جو حج و عمرے میں بھی منڈانا یا زیادہ چھوٹے کرنا درست نہیں تو پھر حج یا عمرے کے علاوہ بلا ضرورت بالوں کو چھوٹے کرنا یا منڈا دینا مردوں کے ساتھ مشابہت ہے، اور ایسے مرد اور عورت پر لعنت کی گئی ہے جو ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کریں۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح