بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
عرفات سے مزدلفہ جاتے ہوئے کیسی چال و رفتار ہونی چاہئے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں عرفات سے مزدلفہ جاتے ہوئے کیسی چال و رفتار ہونی چاہئے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1918 سنن دارمی
حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "فَأَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، وَكَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا أَتَى عَلَى فَجْوَةٍ، نَصَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سوار تھے، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفات سے مزدلفہ کے لئے روانہ ہوئے: اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اونٹ پر تھوڑا تیز چلتے اور جب خالی جگہ پا لیتے تو اور زیادہ تیز چلتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1918]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1922] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1666] ، [مسلم 1286/283] ، [أبوداؤد 1923] ، [نسائي 3023] ، [ابن ماجه 3017، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 1917)
اس سے معلوم ہوا کہ مزدلفہ روانگی کے وقت تیز چلنا چاہئے لیکن پیدل چلنے والوں کی رعایت کے ساتھ، کیونکہ جب راستہ خالی ملتا تب ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اونٹنی کو تیز چلاتے تھے۔
الحكم: إسناده صحيح