بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے کیا کہیں؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے کیا کہیں؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1914 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، سُفْيَانَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:"خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى، فَمِنَّا مَنْ يُكَبِّرُ وَمِنَّا مَنْ يُلَبِّي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے (عرفات کے لئے) روانہ ہوئے تو ہم میں سے کچھ لوگ تکبیر کہہ رہے تھے اور کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1914]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1918] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1284] ، [أبوداؤد 1816] ، [أحمد 3/2، 22] ، [نسائي 3003] ، [ابن خزيمه 2805]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1915 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ عَنْ التَّلْبِيَةِ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:"كَانَ يُلَبِّي الْمُلَبِّي فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن ابی بکر الثقفی نے کہا کہ منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تلبیہ کے بارے میں پوچھا کہ آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کیا کہتے تھے؟ فرمایا: تلبیہ کہنے والا تلبیہ پکارتا تو اس پر کوئی اعتراض نہ کیا جاتا اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تو اس سے منع نہ کیا جاتا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1915]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1919] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 970] ، [مسلم 1285] ، [الموطأ: كتاب الحج 43] ، [ابن حبان 3447]
وضاحت
(تشریح احادیث 1913 سے 1915)
عرفہ کے دن نو تاریخ کی صبح سے تمام ائمہ کے نزدیک تکبیراتِ عیدین شروع ہو جاتی ہیں اور احرام باندھنے کے بعد حج کا تلبیہ بھی شروع ہو جاتا ہے، اس لئے صحابہ کرام «اللّٰه أكبر، اللّٰه أكبر، لا إله إلا اللّٰه واللّٰه أكبر ...... الخ» بھی کہتے اور «لبيك اللّٰهم لبيك ...... الخ» بھی کہتے تھے، اور دونوں ذکر مشروع ہیں اس لئے کوئی کسی پر اعتراض نہ کرتا تھا، لہٰذا دونوں کلمات کہنا جائز ہوا۔
الحكم: إسناده صحيح