بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حجر اسود کو بوسہ دینے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں حجر اسود کو بوسہ دینے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1902 سنن دارمی
مُسَدَّدٌ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ:"إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیشک میں تجھے چومتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ تو یقیناً ایک پتھر ہے، اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ تجھے چومتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1902]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1906] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1597] ، [مسلم 1270] ، [أبويعلی 189] ، [ابن حبان 3821] ، [الحميدي 9]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1903 سنن دارمی
أَبُو عَاصِمٍ ، جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ "يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ، ثُمَّ يُقَبِّلُهُ وَيَسْجُدُ عَلَيْهِ"، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ خَالَكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَفْعَلُهُ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ فَعَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ هَذَا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
جعفر بن عبداللہ بن عثمان نے کہا: میں نے محمد بن عباد بن جعفر کو دیکھا وہ حجر اسود کو چھوتے، بوسہ دیتے اور اس پر سر رکھتے ہیں، میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایسا کرتے دیکھا اور یہ کہتے ہوئے سنا: میں جانتا ہوں کہ تو بیشک ایک پتھر ہے اور ایسا اس لئے کرتا ہوں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1903]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1907] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن خزيمه 2714] ، [البحر الزخار 215] ، [الطيالسي 1043] ، [أبويعلی 189، 219] ، [الحاكم 455/1] ، [بيهقي 74/5، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح احادیث 1901 سے 1903)
اس حدیث سے حجرِ اسود کا استلام کرنا (چھونا اور ہاتھ پھیرنا)، بوسہ دینا اور اس پر سر رکھنا معلوم ہوا، اور یہ افعال سب پیرویٔ سنّتِ سید المرسلین میں ہیں، اس سے پتھر کی تعظیم مقصود نہیں، اس کی تفصیل حدیث نمبر (1877) پر توضیح میں گزر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح