بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
طواف کرنے کے دوران بات چیت کرنے کا حکم و بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں طواف کرنے کے دوران بات چیت کرنے کا حکم و بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1885 سنن دارمی
الْحُمَيْدِيُّ ، الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَحَلَّ فِيهِ الْمَنْطِقَ، فَمَنْ نَطَقَ فِيهِ، فَلَا يَنْطِقْ إِلَّا بِخَيْرٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف نماز (کی طرح عبادت) ہے، ہاں اس میں اللہ تعالیٰ نے بات کرنے کی اجازت دی ہے، پس اگر کوئی طواف کے دوران بات کرنا چاہے تو اچھی بات کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1885]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1889] »
اس روایت کی سند تو ضعیف ہے لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند ابي يعلی 2599] ، [ابن حبان 3836] ، [الموارد 998]
الحكم: إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 1886 سنن دارمی
عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس طریق سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے، ترجمہ اوپر گزر چکا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1886]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «حديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1890] »
اس روایت کی سند صحیح، حوالہ اوپر گذر چکا ہے۔ نیز دیکھئے: [ترمذي 960]
وضاحت
(تشریح احادیث 1884 سے 1886)
احادیثِ باب سے طواف کے دوران بات چیت کرنے کا جواز ثابت ہوا، لیکن مستحب یہ ہے کہ آدمی بلاضرورت طواف کے دوران بات نہ کرے بلکہ اپنے دل و دماغ کو ذکرِ الٰہی و دعا و تلاوت یا علمی باتوں میں مشغول رکھے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: حديث صحيح