بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سواری پر بیٹھ کر طواف کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں سواری پر بیٹھ کر طواف کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1883 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ، كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ، أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ فِي يَدِهِ، وَكَبَّرَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر بیت اللہ کا طواف کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی حجر اسود کے پاس سے گزرتے تو جو چیز (عصا وغیرہ) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ میں ہوتی تو اس کی طرف اس سے اشارہ کرتے اور اللہ اکبر کہتے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1883]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1887] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1607] ، [مسلم 1272] ، [ترمذي 865] ، [ابن حبان 3825]
وضاحت
(تشریح حدیث 1882)
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اس حدیث سے سواری پر طواف کرنا اور حجرِ اسود کی طرف چھڑی سے اشارہ کرنا اور اللہ اکبر کہنا ثابت ہوا، امام شافعی و امام احمد رحمہما اللہ کا یہ ہی مسلک ہے کہ سواری پر بیٹھ کر طواف کرنا عذر کے باعث جائز ہے، اور حجرِ اسود چومتے یا اس کی طرف اشارہ کرتے وقت طواف کرنے والا یہ کہے: «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُمَّ إِيْمَانًا بِكَ وَتَصْدِيْقًا بِكِتَابِكَ وَوَفَاءً بِعَهْدِكَ وَإِتِّبَاعًا لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.» اس کے بعد طواف شروع کرے۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح