بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
محرم کو پچھنا یا سینگی لگوانے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں محرم کو پچھنا یا سینگی لگوانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1857 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں پچھنا لگوایا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1857]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1860] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1835] ، [مسلم 1202] ، [أبوداؤد 1835] ، [ترمذي 839] ، [نسائي 2845]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1858 سنن دارمی
مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ: "احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْيِ جَمَلٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن بحینہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب کہ آپ محرم تھے، مقام لحی جمل میں پچھنا لگوایا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1858]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1861] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1836] ، [مسلم 1203] ، [نسائي 2850] ، [ابن ماجه 3481] ، [ابن حبان 3953] ، [معرفة السنن والآثار للبيهقي 9732]
وضاحت
(تشریح احادیث 1856 سے 1858)
لحی جمل ایک جگہ کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، بخاری شریف میں ہے کہ یہ پچھنا یاسینگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سرِ مبارک میں لگوایا، اس سے معلوم ہوا کہ بوقتِ ضرورت محرم پچھنا لگوا سکتا ہے، مروجہ اعمالِ جراحیہ کو بھی بوقتِ ضرورتِ شدید اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 1859 سنن دارمی
إِسْحَاق ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، عَطَاءٍ ، وَطَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ". قَالَ إِسْحَاق L927: قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: عَنْ عَطَاءٍ، وَمَرَّةً، عَنْ طَاوُسٍ، وَجَمَعَهُمَا مَرَّةً.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احرام کی حالت میں پچھنا لگوایا۔ اسحاق راہویہ نے کہا: سفیان نے ایک مرتبہ عطا سے روایت کی اور ایک مرتبہ طاؤس سے اور ایک مرتبہ دونوں سے روایت کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1859]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1862] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1835] ، [مسلم 1202] ، [أبويعلی 2360، 2390] ، [ابن حبان 3950، 3951] ، [الحميدي 508، 509]
وضاحت
(تشریح حدیث 1858)
ان روایاتِ صحیحہ کے پیشِ نظر علمائے کرام نے حالتِ احرام میں پچھنا لگوانے کے جواز پر اجماع کیا ہے چاہے سر میں پچھنا لگوایا جائے یا اور کسی مقام پر، ضرورت ہو یا نہ ہو، شرط یہ ہے کہ بال نہ کاٹنے پڑیں، اگر بال ٹوٹے یا کاٹنے پڑے تو فدیہ (دم) دینا واجب ہوگا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر حسبِ ضرورت سر کے بال منڈانے پڑے یا کپڑا سلا ہوا پہننا پڑے یا شکار کو مار گرائے تو محرم پر ان سب امور میں فدیہ (دم) واجب ہے۔
(وحیدی بتصرف)۔
الحكم: إسناده صحيح