بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حج افراد کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں حج افراد کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1850 سنن دارمی
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَفْرَدَ الْحَجَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج افراد کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1850]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1853] »
اس روایت کی سند جید اور حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1211/122] ، [أبوداؤد 1777] ، [ترمذي 820] ، [نسائي 2714] ، [ابن ماجه 2964] ، [أبويعلی 4361] ، [ابن حبان 3934]
وضاحت
(تشریح حدیث 1849)
حج کی تین اقسام ہیں: افراد، قران اور تمتع۔
مذکور بالا حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجِ مفرد کیا، اور حجِ مفرد یہ ہے کہ حاہی میقات سے صرف حج کی نیّت کر تے ہوئے کہے: لبیک حجۃ اور طواف و سعی کے بعد احرام کی ہی حالت میں رہے یہاں تک کہ رمی اور حلق سے فارغ ہو جائے، مفرد حاجی پر قربانی واجب نہیں، اور یہ حج کی ایک قسم ہے جو صحیح ہے، اور یہاں افراد سے مراد حجِ قرآن ہے کیونکہ معروف ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہجرت کے بعد صرف ایک بار حج کیا، جیسا کہ حدیث (1824) میں گذر چکا ہے، اور وہ حجِ قران تھا، جیسا کہ آگے (1888) میں آ رہا ہے۔
الحكم: إسناده جيد