بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
احرام باندھنا کس وقت مستحب ہے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں احرام باندھنا کس وقت مستحب ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1844 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، خُصَيْفٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَحْرَمَ دُبُرَ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ظہر کی) نماز کے بعد احرام باندھا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1844]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1847] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 819] ، [نسائي 2753] ، [أبويعلی 2513]
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1845 سنن دارمی
إِسْحَاق ، النَّضْرُ هُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ ، أَشْعَثُ ، الْحَسَنِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ هُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَحْرَمَ وَأَهَلَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز کے بعد احرام باندھا اور لبیک پکارا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1845]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1848] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1541] ، [مسلم 1185، 1186، 1187] ، [أبوداؤد 1747] ، [نسائي 2682] ، [ابن ماجه 3047]
وضاحت
(تشریح احادیث 1843 سے 1845)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز کے بعد احرام باندھا اور تلبیہ کہا۔
اس سے بعد نمازِ ظہر احرام باندھنا ثابت ہوا، نیز یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احرام کے لئے کوئی نماز نہیں پڑھی تھی بلکہ فرض نماز کے بعد احرام باندھا، لہٰذا احرام باندھنے کے وقت احرام کی نیّت سے نماز پڑھنا درست نہیں، ہاں اگر مسجد میں جانا ہو تو دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھی جا سکتی ہے۔
نیز ان احادیث سے ثابت ہوا کہ احرام میقات سے ہی باندھنا چاہیے۔
تلبیہ کہنے کے بارے میں روایات کا اختلاف ہے، اور مسلم شریف میں احرام کے بارے میں بھی مختلف روایات ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہاں سے احرام باندھا تھا؟ بعض راوی مسجد ذوالحلیفہ سے بتاتے ہیں، بعض نے کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد سے نکل کر اونٹنی پر سوار ہوئے، بعض نے کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیداء کی بلندی پر پہنچے تو احرام باندھا اور تلبیہ کہا، یہ اختلاف درحقیقت اختلاف نہیں ہے کیونکہ ان تینوں مقامات پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لبیک پکاری ہوگی اور بعض صحابہ کرام نے اول اور دوسرے مقام پر نہ سنی ہوگی، بعضوں نے اول کی نہ سنی ہوگی دوسرے کی سنی ہوگی، تو ان کو یہی گمان ہوا کہ یہیں سے احرام باندھا (وحیدی)۔
الحكم: إسناده صحيح