بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
احرام باندھتے وقت خوشبو لگانے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں احرام باندھتے وقت خوشبو لگانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1839 سنن دارمی
حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:"كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ بِأَطْيَبِ الطِّيبِ"، قَالَ: وَكَانَ عُرْوَةُ يَقُولُ لَنَا:"تَطَيَّبُوا قَبْلَ أَنْ تُحْرِمُوا وَقَبْلَ أَنْ تُفِيضُوا يَوْمَ النَّحْرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے ان کے بہترین قسم کی خوشبو لگاتی تھی، راوی نے کہا: اور سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ ہم سے کہتے تھے کہ تم احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگا لیا کرو اور اسی طرح قربانی کے دن طواف افاضہ کرنے سے پہلے خوشبو لگا لو۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1839]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1842] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1539، 1839] ، [مسلم 1189] ، [نسائي 2688] ، [أبويعلی 4391] ، [ابن حبان 3766، 3768] ، [الحميدي 212]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1840 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، هِشَامٍ ، عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"لَقَدْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں احرام باندھتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اپنے پاس موجود بہترین قسم کی خوشبو لگاتی تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1840]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1843] »
اس روایت کی سند ضعیف لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5928] ، [مسلم 1189/37] ، [أبوداؤد 1745] ، [ترمذي 917] ، [نسائي 2689] ، [ابن ماجه 2926]
الحكم: إسناده ضعيف والحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 1841 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: "طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ، وَطَيَّبْتُهُ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور منیٰ میں (جس وقت احرام کھولا) طواف افاضہ سے پہلے خوشبو لگائی۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1841]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1844] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5922] ، [مسلم 1189/33] ، [أبوداؤد 1745] ، [نسائي 5684]
وضاحت
(تشریح احادیث 1838 سے 1841)
ان تینوں احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہوا کہ احرام باندھنے سے پہلے بدن پر خوشبو لگانا سنّت ہے لیکن یہ خوشبو احرام کی چادر پر نہیں لگنی چاہیے۔
اسی طرح طوافِ افاضہ سے پہلے خوشبو لگانا سنّت ہے۔
جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ رمی اور حلق کے بعد خوشبو لگانا اور سلے ہوئے کپڑے پہننا درست ہے، صرف عورتوں سے صحبت کرنا درست نہیں ہوتا، طوافِ افاضہ کے بعد وہ بھی درست ہو جاتا ہے اور یہی مسلک امام دارمی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح