بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
شب قدر کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی روزے کے مسائل شب قدر کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1819 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنِّي خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَكَانَ بَيْنَ فُلَانٍ وَفُلَانٍ لِحَاءٌ فَرُفِعَتْ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ: فِي الْخَامِسَةِ، وَالسَّابِعَةِ، وَالتَّاسِعَةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں شب قدر کی خبر دینے کے لئے باہر تشریف لا رہے تھے کہ دو مسلمان آپس میں لڑ پڑے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے پاس آ رہا تھا شب قدر کی تم کو خبر دینا چاہتا تھا کہ فلاں اور فلاں کے درمیان جھگڑا ہو گیا (سو میں بھول گیا وہ کونسی رات ہے) پس وہ بات اٹھا لی گئی اور شاید اس میں بہتری ہی ہے، پس اب تم اس کی تلاش آخری عشرے کی پانچویں ساتویں یا نویں رات کو کرو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1819]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1822] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث بھی صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2023] ، [ابن حبان 3679] ، [ابن ابي شيبه 514/2] ، [التمهيد 200/2]
وضاحت
(تشریح حدیث 1818)
یعنی شبِ قدر کو پانے کے لئے ان مذکورہ راتوں (25، 27، 29) میں قیام و عبادت کریں جس کا ثواب ہزار مہینے کی راتوں سے بہتر ہے، جس میں رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور خیر و برکت لے کر آتے ہیں، اور جس رات میں سال بھر کے فیصلے اللہ تعالیٰ صادر فرماتا ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: «سورة الدخان: 3-6» اور «سورة القدر» ۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1820 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أَيْقَظَنِي بَعْضُ أَهْلِي فَنَسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی لیکن میری کسی بیوی نے مجھے بیدار کر دیا لہٰذا میں بھول گیا (کہ وہ کون سی رات ہے) سو تم رمضان کے آخری عشرے میں اسے تلاش کرو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1820]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1823] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن صحیح سند سے یہی حدیث موجود ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1166] ، [أبويعلی 5972] ، [ابن حبان 3678]
الحكم: إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 1821 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1821]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1824] »
اس روایت کی سند ضعیف لیکن حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2015] ، [مسلم 1165] ، [أبويعلی 5419] ، [ابن حبان 3675] ، [الحميدي 647] ، [ابن الجارود فى الملتقى 405]
وضاحت
(تشریح احادیث 1819 سے 1821)
ليلۃ القدر کی فضیلت کا بیان اوپر گذر چکا ہے، علمائے کرام کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کون سی رات ہے؟ مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوا کہ آخری عشرے میں ہے یا کم از کم آخری سات راتوں میں ہے اور صحیح یہ ہے کہ پورے عشرے شب بیداری اور عبادت کرنی چاہے، کچھ علماء کرام یہ بھی کہتے ہیں کہ طاق راتوں کو ہرگز نہ چھوڑا جائے، اور شبِ قدر ہر سال ہوتی ہے اور کبھی کسی معین دن یا تاریخ میں نہیں ہوتی بلکہ بدلتی رہتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ستائیسویں رات کو شبِ قدر ہوئی جس کی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ نشانیاں بتائی تھیں کہ رات بارش ہوگی، شہابِ ثاقب اس رات میں نہ دیکھے جائیں گے، اور سورج کی شعاعوں میں تیز ی و تمازت نہ ہوگی۔
بعض لوگ اس رات کو شعبان کی پندرہویں رات سمجھتے ہیں جو دلائل و حقائق کے قطعاً خلاف ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده ضعيف ولكن الحديث متفق عليه