بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
شوال کے چھ روزے رکھنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی روزے کے مسائل شوال کے چھ روزے رکھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1792 سنن دارمی
نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، صَفْوَانُ ، وسَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبِي أَيُّوبَ
حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، وسَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتَّةً مِنْ شَوَّالٍ، فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھ لے تو یہ پورے سال روزہ رکھنے کے برابر ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1792]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1795] »
اس روایت کی سند حسن لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1164] ، [أبوداؤد 2433] ، [ترمذي 759] ، [ابن ماجه 1716] ، [ابن حبان 3634] ، [الحميدي 385] و [مجمع الزوائد 5177]
الحكم: إسناده حسن ولكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 1793 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ ، أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "صِيَامُ شَهْرٍ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ، وَسِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَهُنَّ بِشَهْرَيْنِ، فَذَلِكَ تَمَامُ سَنَةٍ"، يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ، وَسِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (ایک سال کے روزے اس طرح ہوئے) کہ ایک مہینے کے روزے دس مہینے کے ہوئے اور ان کے بعد چھ دن کے روزے دو مہینے کے روزے ہوئے، اس طرح بارہ مہینے ہو گئے اور ایک سال پورا ہو گیا۔ یعنی ایک مہینہ رمضان اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1793]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1796] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 1715] ، [ابن حبان 3635] ، [موارد الظمآن 928]
وضاحت
(تشریح احادیث 1791 سے 1793)
ابن ماجہ میں ہے: یہ فرمانِ الٰہی: «﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ...﴾ [الانعام: 160] » کے مطابق ہے کہ جو ایک نیکی لے کر آئے گا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا، اب 36 کو 10 سے ضرب دیجئے تو 360 دن بنتے ہیں، لہٰذا جس شخص نے 36 دن کے روزے رکھے تو اس کو پورے سال روزے رکھنے کا ثواب مل گیا، سبحان رب ذوالجلال رحیم و کریم کی کتنی عنایت و مہربانی ہے کہ روزے سوا مہینے کے اور ثواب پورے سال کا، شوال کے یہ روزے شروع شوال، وسط یا آخر میں کبھی بھی رکھے جا سکتے ہیں، اور یکبارگی مسلسل یا متفرق طور پر بھی رکھے جا سکتے ہیں، لیکن «ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتَّةً» سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ شروع شوال میں یکبارگی رکھے جائیں تو بہتر ہے۔
واللہ اعلم۔
واضح رہے کہ بعض ائمہ نے رمضان کے بعد شش عیدی روزوں کو مکروہ کہا ہے جو صحیح نہیں، ہو سکتا ہے ان کو مذکورہ بالا احادیثِ صحیحہ کا علم نہ ہو۔
علامہ وحیدالزماں رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں: اور قولِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے کسی کا قول نہیں سنا جاتا اور شمس کے آگے چراغ جلانا حماقت ہے۔
«انتهىٰ كلامه.»
الحكم: إسناده صحيح