بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ہفتے کے دن روزہ رکھنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی روزے کے مسائل ہفتے کے دن روزہ رکھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1787 سنن دارمی
أَبُو عَاصِمٍ ، ثَوْرٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ ، الصَّمَّاءُ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، عَنْ أُخْتِهِ يُقَالُ لَهَا الصَّمَّاءُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا كَذَا أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضَغْهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن بسر نے اپنی بہن سے روایت کیا جن کا نام صماء تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فرض روزے کے علاوہ ہفتہ کا روزہ نہ رکھو، اور اگر ہفتے کے دن کھانے کو کچھ نہ ملے، کسی درخت کی چھال ہی مل جائے تو اسی کو چبا لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1787]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1790] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2436] ، [ترمذي 745] ، [نسائي 2357] ، [ابن ماجه 1739] ، [ابن خزيمه 2165] ، [الطبراني فى معجم الكبير 819، 820، 821] میں مذکور ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 1786)
یعنی درخت کی چھال ہی چبا لے، اور ایک روایت میں ہے انگور کی شاخ ہی مل جائے تو اسے چوس لے اور روزہ نہ رکھے، اس روایت کی صحت میں بہت کلام ہے، علی فرضِ صحت اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صرف ہفتہ کا روزہ خصوصیت سے نہ رکھے بلکہ جمعہ کے روزے کی طرح ایک دن قبل یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھے۔
واللہ علم۔
الحكم: إسناده صحيح