يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْعَوَّامُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ لَسْتُ بِتَارِكِهِنَّ:"أَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَأَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنْ لَا أَدَعَ رَكْعَتَيْ الضُّحَى".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے جگری دوست (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے مجھے تین چیزوں کی وصیت کی ہے جن کو میں کبھی چھوڑ نہیں سکتا، پہلی یہ کہ وتر پڑھ کر سونا، دوسری یہ کہ ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھوں، تیسری یہ کہ چاشت کی دو رکعت نماز کبھی نہ چھوڑوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1783]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1786] »
اس روایت کی سند جید ہے، لیکن حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1178] ، [مسلم 721] ، [أبويعلی 6226] ، [ابن حبان 2536]
الحكم: إسناده جيد