بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جو آدمی سفر کے ارادے سے گھر سے نکلا ہو تو کب افطار کرے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی روزے کے مسائل جو آدمی سفر کے ارادے سے گھر سے نکلا ہو تو کب افطار کرے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1751 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، كُلَيْبَ بْنَ ذُهْلٍ الْحَضْرَمِيَّ ، عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ ذُهْلٍ الْحَضْرَمِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ سَفِينَةً مِنْ الْفُسْطَاطِ فِي رَمَضَانَ، فَدَفَعَ، فَقَرَّبَ غَدَاءَهُ. ثُمَّ قَالَ: اقْتَرِبْ. فَقُلْتُ: أَلَسْتَ تَرَى الْبُيُوتَ؟ فَقَالَ أَبُو بَصْرَةَ:"أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبید بن جبیر نے کہا: سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ جب فسطاط (ایک شہر) سے رمضان میں نکلے تو میں ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا، انہوں نے دوپہر کا کھانا نکالا اور کہا: قریب آ جاؤ، میں نے عرض کیا: کیا آپ ابھی شہری آبادی کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ سیدنا ابوبصرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے نفرت ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1751]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1754] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2412] ، [أحمد 398/6] ، [المعجم الكبير للطبراني 279/2، 2169]
وضاحت
(تشریح حدیث 1750)
مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رمضان میں سفر کے ارادے سے نکلتے تو افطار کر لیتے جیسا کہ سیدنا ابوبصرہ رضی اللہ عنہ نے کیا، ان کے نزدیک جو ایسا نہ کرے وہ سنّت سے اعراض کرتا ہے، اس حدیث سے علماء کرام نے استدلال کیا ہے کہ انسان جب سفر کے ارادے سے نکلے تو قصر اور افطار شروع کر سکتا ہے گرچہ وہ شہر کی آبادی سے دور نہ ہوا ہو۔
الحكم: إسناده جيد