بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کس چیز سے روزہ افطار کرنا مستحب ہے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی روزے کے مسائل کس چیز سے روزہ افطار کرنا مستحب ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1739 سنن دارمی
أَبُو النُّعْمَانِ ، ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، عَاصِمٌ ، حَفْصَةَ ، الرَّبَاب الضَّبِّيَّةِ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ الرَّبَاب الضَّبِّيَّةِ، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو اسے کھجور سے افطار کرنا چاہیے، اگر کھجور نہ ملے تو صاف پانی سے افطار کرے کیونکہ پانی پاک ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1739]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد الرباب، [مكتبه الشامله نمبر: 1743] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2355] ، [ترمذي 695] ، [ابن ماجه 1699] ، [ابن حبان 3514] ، [الموارد 892]
وضاحت
(تشریح حدیث 1738)
اس حدیث میں کھجور سے روزہ افطار کرنے کا حکم ہے اور یہ حکم یا امر استحباب کے لئے ہے، کھجور دستیاب نہ ہو تو پانی یا کسی اور چیز سے روزہ افطار کیا جا سکتا ہے۔
لیکن کھجور سے روزہ کھولنا مستحب ہے۔
الحكم: إسناده جيد الرباب