بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سحری کھانے کی فضیلت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی روزے کے مسائل سحری کھانے کی فضیلت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1734 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةَ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سحری کرو اس لئے کہ سحری میں برکت ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1734]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1738] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1923] ، [مسلم 1095] ، [ترمذي 708] ، [نسائي 2145] ، [ابن ماجه 1692] ، [أبويعلی 2848] ، [ابن حبان 3466] ، [شعب الايمان 3908]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1735 سنن دارمی
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ ، أَبِي ، أَبِي قَيْسٍ ، عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَأْمُرُنَا أَنْ نَصْنَعَ لَهُ الطَّعَامَ يَتَسَحَّرُ بِهِ فَلَا يُصِيبُ مِنْهُ كَثِيرًا، فَقُلْنَا: تَأْمُرُنَا بِهِ وَلَا تُصِيبُ مِنْهُ كَثِيرًا؟ قَالَ: إِنِّي لَا آمُرُكُمْ بِهِ أَنِّي أَشْتَهِيهِ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوقیس عمرو بن العاص کے غلام نے کہا کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہم کو کھانا رکھنے کا حکم دیتے تھے تاکہ سحری کریں لیکن کچھ زیادہ تناول نہ کرتے، ہم نے عرض کیا: آپ ہمیں کھانا رکھنے کا حکم تو دیتے ہیں لیکن کچھ زیادہ تناول نہیں فرماتے؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں اس لئے کھانا رکھنے کا حکم نہیں دیتا کہ مجھے کھانے کی بہت زیادہ اشتہاء ہوتی ہے، بلکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے ہیں: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں فرق یہ ہی سحری کھانا ہے (اس لئے تھوڑا سا کھا لیتا ہوں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1735]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1739] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھے: [مسلم 1096] ، [أبوداؤد 2343] ، [ترمذي 708] ، [نسائي 2165] ، [أبويعلی 7337]
وضاحت
(تشریح احادیث 1733 سے 1735)
پہلی حدیث سے سحری کھانے کی فضیلت ثابت ہوئی کہ اس میں برکت ہے، روزے دار کو تقویت ملتی ہے، سحری کے لئے صائم اٹھتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے، اس کی خوشنودی کے لئے کھانے سے فارغ ہو کر نماز باجماعت پڑھتا ہے، یہ سب فضیلتیں حاصل ہوتی ہیں۔
دوسری حدیث میں بتایا گیا کہ اہلِ کتاب سحری نہیں کرتے اس لئے تم سحری کرو، ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سحری کے کھانے کو «الغذاء المبارك» کہا اور نسائی شریف کی ایک روایت میں ہے کہ سحری اللہ تعالیٰ کے عطیات میں سے ہے اس کو چھوڑو نہیں، ان تمام روایات سے سحری کھانے کی فضیلت ثابت ہوئی، اس لئے اس کو چھوڑنا نہ چاہیے، چاہے چند لقے ہی سہی سحری ضرور کرنی چاہیے جیسا کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ و دیگر صحابہ کرام کیا کرتے تھے۔
الحكم: إسناده صحيح