بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سحری کھانے میں تاخیر کرنا مستحب ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی روزے کے مسائل سحری کھانے میں تاخیر کرنا مستحب ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1733 سنن دارمی
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: "تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ. قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالسُّحُورِ؟ قَالَ: قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے، راوی نے کہا: میں نے زید سے پوچھا سحری اور اذان میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا؟ بتایا کہ پچاس آیات پڑھنے کے برابر فاصلہ ہوتا تھا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1733]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1737] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1921] ، [مسلم 1097] ، [ترمذي 703] ، [نسائي 2154] ، [ابن ماجه 1694] ، [أبويعلی 2943] ، [ابن حبان 1497]
وضاحت
(تشریح حدیث 1732)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خود سید البشر افضل الخلق محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سحری کرتے تھے اور طلوعِ فجر سے پہلے آخر وقت میں کھانا تناول فرماتے تھے، اس سے سحری تاخیر سے کھانا ثابت ہوا جو سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مطابق مستحب و مسنون ہے۔
الحكم: إسناده صحيح