بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کام کرنے والے اونٹوں میں زکاۃ نہیں ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی زکوٰۃ کے مسائل کام کرنے والے اونٹوں میں زکاۃ نہیں ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1715 سنن دارمی
النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدَّهِ
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا بِهَا، فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا، فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ مَالِهِ عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ اللَّهِ، لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
بہز بن حکیم نے اپنے دادا، وہ ان کے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے: جنگل میں چرنے والے ہر چالیس اونٹ میں ایک بنت لبون (دو سالہ اوٹنی) زکاة کی دینی ہو گی، اور اونٹ اپنے مقام سے (زکاة سے بچنے کے لئے) الگ الگ نہ کئے جائیں گے۔ جو شخص اجر کی نیت سے زکاة ادا کرے گا اس کو ثواب ملے گا اور جو شخص زکاة کو روکے گا ہم اس سے زکاۃ وصول کر لیں گے۔ اور زکاة روکنے کی سزا میں اس کا آدھا مال بھی لے لیں گے، کیونکہ یہ الله تعالیٰ کے عائد کردہ فرائض میں سے ایک فریضہ ہے۔ آل محمد کے لئے اس میں سے کچھ بھی حلال نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1715]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1719] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1575] ، [نسائي 2448] ، [أحمد 4/5] ، [ابن خزيمه 2266] ، [الطبراني 988]
وضاحت
(تشریح حدیث 1714)
امام احمد و امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما کا قدیم قول یہی ہے کہ جب کوئی شخص زکاۃ نہ دے تو اس سے زکاة لی جائے، اور آدھا مال اس کا جرمانے میں لیا جائے، اکثر علماء کے نزدیک یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا (اور) جب جرمانہ لینا درست تھا، پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا۔
نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں جیسا کہ گذر چکا ہے، نیز یہ کہ اونٹ کا نصاب پانچ عدد اونٹ ہیں، پچھلے صفحات میں اس کی تفصیل گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده جيد