بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سائل کو بنا کچھ دیئے لوٹانے کی کراہت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی زکوٰۃ کے مسائل سائل کو بنا کچھ دیئے لوٹانے کی کراہت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1710 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، مَالِكٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَشْهَلِيِّ ، حَوَّاءُ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَشْهَلِيِّ، عَنْ جَدَّتِهِ يُقَالُ لَهَا حَوَّاءُ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ يَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ، لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاكُنَّ لِجَارَتِهَا، وَلَوْ كُرَاعُ شَاةٍ مُحَرَّقٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ حواء رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی اپنی پڑوسن کے لئے کسی بھی چیز کو ہدیہ دینا حقیر نہ سمجھے، خواہ بکری کا جلا ہوا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔ (یا جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو)۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1710]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1714] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2566] ، [مسلم 1030] ، [أبوداؤ د 1667] ، [ترمذي 665] ، [نسائي 2564، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 1709)
«كراع» چوپائے یا انسان کے ٹخنے سے نیچے کے حصہ کو کہتے ہیں، صحیحین میں «ولو فرسن شاة» کا لفظ آیا ہے۔
یعنی بکری کا کھر۔
پائے پر بہت تھوڑا سا گوشت ہوتا ہے اور بہت کم قیمت کی چیز ہے، لیکن اگر کسی کے پاس یہی چیز ہو تو اس کا صدقہ کرنا حقیر نہ جانے، سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ ہونے دے، اور اگر سائل یا سائلہ مانگنے والی پڑوسن ہو تو اس کا حق بہت زیادہ ہے، اور تحفے تحائف سے محبت بڑھتی ہے۔
الحكم: إسناده جيد