بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
محصول لینے والا تم سے راضی ہو کر واپس جائے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی زکوٰۃ کے مسائل محصول لینے والا تم سے راضی ہو کر واپس جائے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1708 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، هُشَيْمٌ ، دَاوُدَ ، وَمُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَرِيرٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ، وَمُجَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا جَاءَكُمْ الْمُصَدِّقُ، فَلَا يَصْدُرَنَّ عَنْكُمْ إِلَّا وَهُوَ رَاضٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب زکاة وصول کرنے والا تمہارے پاس آئے تو وہ تمہارے پاس سے راضی و خوش ہو کر لوٹے۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1708]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه عنعنة هشيم ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1712] »
اس روایت میں ہشیم کا عنعنہ ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 989] ، [أبوداؤد 1589] ، [نسائي 2453] ، [الحميدي 814]
الحكم: إسناده ضعيف فيه عنعنة هشيم ولكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 1709 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَامِرٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے حسب سابق حدیث روایت کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1709]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1713] »
اس روایت کی سند صحیح اور تخریج اوپر ذکر کی جا چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1707 سے 1709)
اس حدیث کا مقصود یہ ہے کہ حاکموں کی اطاعت کرو، ان کو راضی رکھو اور تکلیف نہ پہنچاؤ، کیونکہ اسی میں صلاحِ طرفین ہے۔
دینِ اسلام بڑا عادلانہ و منصفانہ نظام ہے، ایک طرف زکاة و عشر وصول کرنے والوں کو ہدیۃً تحفہ قبول کرنے سے اور اپنے لئے پرسنٹیز لگانے سے منع کیا تو دوسری طرف زکاة دینے والوں کو بھی حکم دیا کہ آفیسران اور ذمہ داران کو زبردستی کرنے پر مجبور نہ کرو اور ہنسی خوشی مسلمانوں کا حق اپنے مال میں سے انہیں دے دو تاکہ وہ بھی راضی خوشی تمہارے پاس سے واپس ہوں۔
«(سُبْحَانَ مَنْ شَرَعَ الْاَحْكَامَ)» ۔
الحكم: إسناده صحيح