بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
آدمی کے پاس جو کچھ ہو سب صدقہ کر دے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی زکوٰۃ کے مسائل آدمی کے پاس جو کچھ ہو سب صدقہ کر دے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1698 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ، فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا. قَالَ: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟"قُلْتُ: مِثْلَهُ، قَالَ: فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ:"يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟". فَقَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. فَقُلْتُ: لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اسلم نے کہا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں، اتفاق سے اس وقت میرے پاس بہت مال تھا، میں نے دل میں کہا: آج اگر میں نے سبقت کی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر بازی لے جاؤں گا، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر حاضر خدمت ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے اہل و عیال کے لئے تم نے کیا چھوڑا؟ عرض کیا: اسی قدر چھوڑ آیا ہوں، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی جو کچھ ان کے پاس تھا سب لے کر آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر گھر بار کے لئے کیا چھوڑا ہے، عرض کیا: ان کے واسطے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں، تب میں نے کہا: (اے ابوبکر) میں تم سے کبھی آگے نہ بڑھ سکوں گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1698]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل هشام بن سعد، [مكتبه الشامله نمبر: 1701] »
یہ روایت حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1678] ، [ترمذي 3675] ، [السنة لابن ابي عاصم 1240] ، [شرح السنة 180/6]
وضاحت
(تشریح حدیث 1697)
اس حدیث سے سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت ثابت ہوئی جو اللہ کے راستے میں اپنا مال و دولت قربان کرنے میں سبقت کرتے ہیں۔
پھر بڑوں کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے گویا ہوئے کہ میں کبھی آپ سے بازی نہیں لے جاسکتا ہوں، نیز اس حدیث سے ثابت ہوا کہ آدمی اپنے اہل و عیال، گھر بار کا بھی خیال رکھے، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ یقین و توکل ہو تو سب کچھ خیرات بھی کر سکتا ہے۔
نیز یہ کہ قدر و منزلت مال کی مقدار میں نہیں بلکہ نیّت و اخلاص میں ہے۔
واللہ علم۔
الحكم: إسناده حسن من أجل هشام بن سعد