الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عِيسَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَبِي لَيْلَى
أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَأَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، وَقَالَ:"أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابولیلیٰ بلال انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھا اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھے، انہوں نے صدقہ کی کھجور میں سے ایک کھجور اٹھا لی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے اس کو چھین لیا اور فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے؟“ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1681]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1683] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 248/4] ، [ابن ابي شيبه 215/3] ، [شرح معاني الآثار 10/2]
وضاحت
(تشریح احادیث 1679 سے 1681)
ان دونوں حدیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہلِ بیت کے لئے جائز نہیں، اور اہلِ بیت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات اور آل اولاد سب شامل ہیں، بعض علماء نے کہا کہ صرف فرض زکاة حرام ہے جیسا کہ امام جعفر صادق سے مروی ہے: زکاة و صدقات کو میل کچیل گردانا گیا ہے لہٰذا آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اس سے بچنا لازمی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح