بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
صدقہ لینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت کے لئے جائز نہیں
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی زکوٰۃ کے مسائل صدقہ لینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت کے لئے جائز نہیں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1680 سنن دارمی
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: أَخَذَ الْحَسَنُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"كِخْ كِخْ أَلْقِهَا، أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ؟".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہريرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے زکاة کی کھجور میں سے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چھی چھی، نکالو اسے، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم لوگ صدقہ نہیں کھاتے؟ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1680]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1682] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1491] ، [مسلم 1069] ، [ابن حبان 3294] ، [شرح معاني الآثار 9/2]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1681 سنن دارمی
الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عِيسَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَبِي لَيْلَى
أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَأَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، وَقَالَ:"أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابولیلیٰ بلال انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھا اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھے، انہوں نے صدقہ کی کھجور میں سے ایک کھجور اٹھا لی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے اس کو چھین لیا اور فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے؟ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1681]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1683] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 248/4] ، [ابن ابي شيبه 215/3] ، [شرح معاني الآثار 10/2]
وضاحت
(تشریح احادیث 1679 سے 1681)
ان دونوں حدیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہلِ بیت کے لئے جائز نہیں، اور اہلِ بیت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات اور آل اولاد سب شامل ہیں، بعض علماء نے کہا کہ صرف فرض زکاة حرام ہے جیسا کہ امام جعفر صادق سے مروی ہے: زکاة و صدقات کو میل کچیل گردانا گیا ہے لہٰذا آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اس سے بچنا لازمی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح