بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اس مسکین کا بیان جس کو زکاۃ دی جا سکتی ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی زکوٰۃ کے مسائل اس مسکین کا بیان جس کو زکاۃ دی جا سکتی ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1654 سنن دارمی
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: "لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَالْكِسْرَةُ وَالْكِسْرَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَيْسَ لَهُ غِنًى يُغْنِيهِ، يَسْتَحْيِي أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ إِلْحَافًا، أَوْ لَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جسے ایک دو لقمے یا ایک دو ٹکڑے یا ایک دو کھجور در در پھرائیں، مسکین تو وہ ہے جس کے پاس مال نہیں لیکن اس کو مانگنے سے شرم آتی ہے، یا وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1654]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1656] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1476] ، [مسلم 1029] ، [أبوداؤد 31] ، [أبويعلی 6337] ، [ابن حبان 3298] ، [مسند الحميدي 1090]
وضاحت
(تشریح حدیث 1653)
اس حدیث سے مسکین کی تحدید ہوگئی، اصلاً روزانہ پھیری لگانے والے سب ہی مسکین نہیں ہوتے بلکہ حقیقتاً مسکین تو وہ ہے جو فقیر اور محتاج ہو لیکن شرم کی وجہ سے کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرے، ایسے مسکین کو تلاش کر کے ایسے ہی لوگوں کو زکاة دینی چاہیے اور یہ ہی زکاة کے زیادہ مستحق ہیں۔
واللہ علم
الحكم: إسناده صحيح