بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سواری پر وتر پڑھنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل سواری پر وتر پڑھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1629 سنن دارمی
مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مَالِكٌ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَرَ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ". قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: تَقُولُ بِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اونٹ پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ بھی یہی کہتے ہیں؟ کہا: ہاں (یعنی وتر سواری پر پڑھا جا سکتا ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1631] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 999] ، [مسلم 700] ، [أبوداؤد 1226] ، [ترمذي 472] ، [نسائي 1687] ، [ابن ماجه 1200] ، [أبويعلی 5459] ، [ابن حبان 2413]
وضاحت
(تشریح حدیث 1628)
اس حدیث سے سواری پر بیٹھے ہوئے وتر پڑھنا ثابت ہوا، علماء کرام نے کہا: یہ وتر کے عدم وجوب کی دلیل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف نوافل سواری پر پڑھتے تھے اور فرض نماز پڑھنی ہوتی تو سواری سے اتر کر پڑھتے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح