بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جمعہ کے دن جو آدمی خطبہ کے دوران مسجد میں داخل ہو اس کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل جمعہ کے دن جو آدمی خطبہ کے دوران مسجد میں داخل ہو اس کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1590 سنن دارمی
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَوْ قَدْ خَرَجَ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو یا خطبہ کے لئے نکل چکا ہو تو اسے دو رکعت نماز پڑھ لینی چاہیے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1590]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1592] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 931] ، [مسلم 875] ، [أبويعلی 1946] ، [ابن حبان 2500] ، [الحميدي 1257]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1591 سنن دارمی
صَدَقَةُ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو سَعِيدٍ
أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ أَبُو سَعِيدٍ وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ، "فَقَامَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَأَتَاهُ الْحَرَسُ يَمْنَعُونَهُ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَتْرُكُهُمَا وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِهِمَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عیاض بن عبداللہ نے کہا: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ آئے اس وقت مروان خطبہ دے رہے تھے، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو مروان کے سپاہی آ کر انہیں نماز پڑھنے سے روکنے لگے، تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان دو رکعت کو ترک نہیں کروں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا حکم دیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1591]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل محمد بن عجلان، [مكتبه الشامله نمبر: 1593] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 511] ، [أبويعلی 994] ، [ابن حبان 2503] ، [الموارد 325] ، [الحميدي 758]
الحكم: إسناده حسن من أجل محمد بن عجلان
حدیث نمبر: 1592 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، الرَّبِيعِ هُوَ ابْنُ صَبِيحٍ الْبَصْرِيُّ ، الْحَسَنُ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الرَّبِيعِ هُوَ ابْنُ صَبِيحٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: رَأَيْتُ الْحَسَنَ"يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ". وَقَالَ الْحَسَنُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَقُولُ بِهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ربیع بن صبیح بصری نے کہا: میں نے خطبہ کے دوران امام حسن بصری رحمہ اللہ کو دو رکعت پڑھتے دیکھا، اور انہوں نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب امام خطبہ دے رہا ہو اورتم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ دو ہلکی رکعت (تحیۃ المسجد) پڑھ لے، ان میں اختصار سے کام لے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: میرا بھی یہی قول ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1592]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1594] »
اس حدیث کی تخریج اوپر گذر چکی ہے۔ نیز دیکھئے: [أبويعلی 2276] ، اور اس روایت کی سند صحیح ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1589 سے 1592)
مذکورہ بالا احادیثِ صحیحہ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر کوئی شخص جمعہ کے دن مسجد میں اس حال میں داخل ہو کہ خطیب خطبہ دے رہا ہو تب بھی اس کو دو رکعت ہلکی تحیۃ المسجد ضرور پڑھ لینی چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ ہی کی حالت میں ایک آ نے والے شخص سلیک نامی کو دو رکعت پڑھنے کا حکم فرمایا تھا۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے [حجة الله البالغه 101/2] میں لکھا ہے (ترجمہ) جب کوئی نمازی ایسے حال میں مسجد میں داخل ہو کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو دو رکعت ہلکی خفیف پڑھ لے تاکہ سنّتِ راتبہ اور خطبہ ہر دو کی رعایت ہو سکے، اور اس مسئلہ میں تمہارے ملک کے لوگ جو شور کرتے ہیں ان کے دھوکے میں نہ آؤ کیونکہ اس مسئلہ کے حق میں حدیثِ صحیح وارد ہے جس کا اتباع واجب ہے۔
وباللہ التوفیق۔
الحكم: إسناده حسن