بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
صلاۃ الاستسقاء کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل صلاۃ الاستسقاء کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1572 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ، يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"خَرَجَ بِالنَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو لے کر عیدگاہ کی طرف نکلے کہ بارش کے لئے دعا کریں، پس آپ قبلہ رو ہوئے اور چادر کو الٹا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1572]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1574] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1012] ، [مسلم 894] ، [أبوداؤد 1166] ، [ابن حبان 2864] ، [مسند الحميدي 419، 420]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1573 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، شُعَيْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَمَّهُ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ: أَنَّ عَمَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"خَرَجَ بِالنَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي لَهُمْ، فَقَامَ فَدَعَا اللَّهَ قَائِمًا، ثُمَّ تَوَجَّهَ قِبَلَ الْقِبْلَةِ، فَحَوَّلَ رِدَاءَهُ فَأُسْقُوا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عباد بن تمیم نے خبر دی کہ ان کے چچا نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے لئے بارش کی دعا کرنے انہیں لے کر عیدگاہ کی طرف گئے، کھڑے ہوئے اور اللہ سے دعا کی، پھر قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے اور چادر الٹی (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا قبول ہوئی) اور بارش ہو گئی۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1573]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1575] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1023]
وضاحت
(تشریح احادیث 1571 سے 1573)
قحط سالی کے وقت بارش کے لئے دعا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنتوں میں سے ہے اور اس کے کئی طریقے ہیں: (1) کسی بھی وقت کوئی بھی بارش کے لئے الله تعالیٰ سے دعا مانگے، (2) امام نوافل یا فرض نماز یا خطبہ کے دوران دعا کرے، (3) کامل ترین صورت یہ ہے کہ امام لوگوں کو لے کر عید گاہ جائے، دو رکعت جہری نماز پڑھائے جس کو صلاة الاستسقاء کہتے ہیں، خطبہ دے اور پھر بارش کے لئے دعا کر کے چادر کو الٹے، نماز سے پہلے توبہ و استغفار، صدقہ و خیرات بھی قبولیتِ دعا کے اسباب میں سے ہے۔
ان تمام امور کا ثبوت احادیثِ صحیحہ میں موجود ہے جن میں سے چند احادیث امام دارمی رحمۃ الله علیہ نے یہاں ذکر کی ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح