بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1552 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبأَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ، نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی اونٹنی پر مشرق کی طرف منہ کئے ہوئے (نفلی) نماز پڑھتے تھے اور جب فرض پڑھتے تو سواری سے اتر جاتے اور پھر قبلے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1552]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1554] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1099] ، [مسلم 540] ، [أبوداؤد 1227] ، [نسائي 1188] ، [ابن ماجه 1018] ، [أبويعلی 2120] ، [ابن حبان 2120]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1553 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، عُقَيْلٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يُسَبِّحُ وَهُوَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اونٹنی پر نفل نماز پڑھتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سر کے اشارے سے نماز پڑھ رہے تھے، اس کا خیال کئے بغیر کہ سواری کا منہ کسی طرف ہے، لیکن فرض نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح نہیں کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1553]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف عبد الله بن صالح سيئ الحفظ جدا. ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1555] »
اس روایت میں عبدالله بن صالح سئی الحفظ جدا ہیں لیکن حدیث دوسرے طرق سے بھی مروی اور صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1197] ، [مسلم 701] ، [أبويعلی 7202] ، [أبوداؤد 1224] ، [نسائي 489]
وضاحت
(تشریح احادیث 1551 سے 1553)
ایسی سواری جو اپنے اختیار میں ہو جیسے کار یا اونٹ، گھوڑا، خچر وغیرہ تو نفل نماز اس پر پڑھی جا سکتی ہے۔
فرض نماز کے لئے اترنا اور زمین پر پڑھنا چاہیے۔
ریل، جہاز وغیرہ پر فرض نماز پڑھی جا سکتی ہے جو اختیار میں نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده ضعيف عبد الله بن صالح سيئ الحفظ جدا. ولكن الحديث متفق عليه