بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قرآن پاک خوش الحانی سے پڑھنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل قرآن پاک خوش الحانی سے پڑھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1527 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ كَإِذْنِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: الله تعالیٰ نے کسی چیز کی اتنی اجازت نہیں دی جتنی اپنے نبی کو قرآن پاک جہر (بلند آواز) اور خوش الحانی سے پڑھنے کی اجازت دی۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1527]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1529] »
اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5024] ، [مسلم 792] ، [أبويعلی 5959] ، [ابن حبان 751، 752] ، [الحميدي 979]
الحكم: إسناده حسن ولكن الحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 1528 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: ابْنُ عُيَيْنَةَ: أُرَاهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى وَهُوَ يَقْرَأُ، فَقَالَ:"لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو قرأت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: ان کو آل داؤد کی آوازوں میں سے آواز دی گئی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1528]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1530] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1848] ، [ابن حبان 7195] ، [موارد الظمآن 2263] ، [الحميدي 284]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1529 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ ، سَعْدٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص خوش الحانی سے قرآن نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1529]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1531] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1848] ، [أبويعلی 689] ، [ابن حبان 120] ، [الحميدي 77]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1530 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يُرِيدُ بِهِ الِاسْتِغْنَاءَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایسی محبت (و توجہ) سے کسی چیز کو نہیں سنتا جیسے کسی نبی کو خوش الحانی سے قرآن پڑھتے سنتا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: «تغني بالقرآن» سے مراد استغناء ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1530]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1532] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ تخریج (1527) نمبر پرگذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1526 سے 1530)
«(مَا أَذِنَ اللّٰهُ)» اذن اور سمع دونوں کے معنی لغت میں سننے کے ہیں اور یہ الله تعالیٰ کی صفت ہے اور مومن کو اسی پر بلا کیف مثل اور صفات کے ایمان لانا چاہئے (علامہ وحیدالزماں، شرح مسلم)، اور «من لم يتغن بالقرآن» کی تفسیر میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔
بعض نے کہا: جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے، مد و شد کی رعایت نہ کرے، بشرطیکہ کوئی حرف اپنی حد سے کم زیادہ نہ ہو، اور راگنی کو دخل نہ دے (علامہ وحیدالزماں، شرح ابی داؤد)، ایک روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا گیا: قرآن مجید کی تلاوت میں سب سے زیادہ پسندیدہ آواز کون سی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس تلاوت سے اللہ تعالیٰ کا ڈر پیدا ہو، یہ بھی روایت ہے کہ قرآن مجید کو اہلِ عرب کے لہجے میں پڑھو، گانے والوں اور اہلِ کتاب کے لب و لہجہ سے قرآن پاک کی تلاوت سے پرہیز کرو، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد ایک قوم ایسی پیدا ہوگی جو قرآن مجید کو گویّوں کی طرح گا گا کر پڑھے گی، یہ تلاوت ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گی، ان کے دل فتنے میں مبتلا ہوں گے۔
ایسی تلاوت قطعاً ممنوع ہے۔
قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ متوسط آواز سے پڑھنا مسنون ہے۔
خوش الحانی اور تغنی بالقرآن یہی ہے، گا کر پڑھنے کو مالکیہ نے حرام اور شافعیہ و حنفیہ نے مکروہ قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی حرف کی ادائیگی میں خلل نہ آئے، اگر حرف میں تغیر ہو جائے تو بالاجماع حرام ہے (شرح بخاری، مولانا راز صاحب رحمہ اللہ)۔
الحكم: إسناده صحيح