بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ ص کے سجدے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل سورۃ ص کے سجدے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1505 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِلَالٍ ، عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَرَأَ ص، فَلَمَّا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ، نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدْنَا مَعَهُ، وَقَرَأَهَا مَرَّةً أُخْرَى، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَيَسَّرْنَا لِلسُّجُودِ فَلَمَّا رَآنَا، قَالَ:"إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَدْ اسْتَعْدَدْتُمْ لِلسُّجُودِ"، فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدْنَا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیا تو سورہ ص پڑھی، اور جب آیت سجدہ پر پہنچے تو منبر سے نیچے تشریف لائے، سجدہ کیا تو ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، اور پھر دوسری بار پھر (خطبہ جمعہ) میں سورہ ص پڑھی تو ہم سجدے کے لئے تیار ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس حالت میں ہمیں دیکھا تو فرمایا: یہ ایک نبی کی توبہ کا ذکر ہے (یعنی سجدہ ضروری نہیں) لیکن میں نے تمہیں سجدے کی تیاری کرتے دیکھ لیا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیچے تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سجدہ کیا تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1505]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن صالح ولكنه توبع عليه فصح الإسناد، [مكتبه الشامله نمبر: 1507] »
عبدالله بن صالح کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے، لیکن اس کا شاہد صحیح موجود ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1410] ، [ابن حبان 2765، 2799] ، [موارد الظمآن 689، 690]
الحكم: إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن صالح ولكنه توبع عليه فصح الإسناد
حدیث نمبر: 1506 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، إِسْمَاعِيل هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي السُّجُودِ فِي ص:"لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سورہ ص کے سجدے کے بارے میں کہا: یہ ضروری سجود تلاوة میں سے نہیں، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس پر سجدے کرتے دیکھا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1506]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1508] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ [بخاري 1069، 3422] ، [أبوداؤد 1409] ، [ترمذي 577] ، [نسائي 956] ، [ابن حبان 2766]
وضاحت
(تشریح احادیث 1504 سے 1506)
سورہ ص میں آیتِ سجدہ: «﴿فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ﴾ [ص: 24] » ہے۔
یعنی داؤد علیہ السلام کے سجده میں گرنے کا حال بیان کیا گیا ہے، اس لئے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو سجودِ تلاوة میں شامل نہیں کیا جیسا کہ اگلی روایت میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح