بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سجدہ شکر کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل سجدہ شکر کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1501 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ ، شَعْثَاءُ ، ابْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَتْنَا شَعْثَاءُ قَالَتْ: رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ حِينَ بُشِّرَ بِالْفَتْحِ، أَوْ بِرَأْسِ أَبِي جَهْلٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
شعثاء نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب فتح مکہ کی یا ابوجہل کے سر قلم کئے جانے کی خوشخبری ملی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کے وقت دو رکعت نماز پڑھی۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1501]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 1503] »
اس روایت میں مسلمہ بن رجاء ہیں جن کی وجہ سے یہ روایت حسن ہے، اور شعثاء: بنت عبدالله الاسدیہ ہیں۔ حوالہ دیکھئے: [ابن ماجه 1391] ، [تهذيب الكمال 206/35]
وضاحت
(تشریح حدیث 1500)
سجدۂ شکر کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، کسی خوش کن خبر پر صرف سجدہ کیا جائے یا دو رکعت شکرانہ ادا کی جائے۔
امام دارمی رحمہ اللہ غالباً اسی کی طرف مائل ہیں اسی لئے سجدۂ شکر کا باب قائم کیا، لیکن حدیث دو رکعت شکرانے کی ذکر کی ہے، بہرحال خوش خبری کے موقع پر سجدے میں گر جانا، یا دو رکعت نمازِ شکرانہ ادا کرنا دونوں عمل حسن اور جائز ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دونوں طریقے ثابت ہیں۔
دیکھئے: [ابن ماجه 1392، 1394] ۔
الحكم: لم يحكم عليه المحقق