بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
صلاۃ الأوابین کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل صلاۃ الأوابین کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1496 سنن دارمی
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ ، الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتْ الْفِصَالُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طلوع آفتاب کے بعد باہر تشریف لائے تو لوگوں کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں، تو فرمایا: صلاة الأوابین کا وقت جب ہے کہ اونٹ کے بچوں کے پیر جلنے لگیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1496]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1498] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 748] ، [ابن حبان 2539] ، [ابن ابي شيبه 406/2]
وضاحت
(تشریح حدیث 1495)
صلاة الاوّابین چاشت ہی کی نماز ہے جو دن چڑھے پڑھنا افضل ہے گرچہ طلوعِ شمس سے زوال تک جائز ہے، لیکن عمدہ وقت یہ ہے کہ دھوپ سے ریت گرم ہو جائے اور اونٹ کے بچوں کے پیر جلنے لگیں (علامہ رحمہ اللہ)، اوّابون اوّاب کی جمع ہے جس کے معنی مطیع و فرماں بردار کے ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح