يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْجُرَيْرِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبأَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دو اذانوں (اذان و اقامت) کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں کے بیچ نماز ہے، ہر دو اذانوں کے بیچ نماز ہے۔ آخر میں فرمایا: ہر دو اذانوں کے بیچ جو چاہے اس کے لئے نماز ہے۔“ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ بھی یہی کہتے ہیں کہ مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھی جائے؟ کہا: ہاں، میں بھی یہی کہتا ہوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1478]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1480] »
اس روایت کے رواة ثقات ہیں، اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 624] ، [مسلم 627، 838] ، [أبوداؤد 1283] ، [ترمذي 185] ، [نسائي 680] ، [ابن ماجه 1162] ، [ابن حبان 1559، 1560]
الحكم: رجاله ثقات والحديث متفق عليه