بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کون سی نماز بہتر ہے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل کون سی نماز بہتر ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1462 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ". قِيلَ: فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:"طُولُ الْقِيَامِ". قِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:"جُهْدُ مُقِلٍّ". قِيلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:"أَنْ تَهْجُرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْكَ". قِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:"مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ". قِيلَ: فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ:"مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن حبشی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ ارشاد فرمایا: اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے، پھر وہ جہاد جس میں خیانت نہ ہو، اور پھر حج مبرور۔ دریافت کیا گیا: اور سب سے زیادہ افضل (فضیلت والی) نماز کون سی ہے؟ فرمایا: جس میں قیام لمبا ہو۔ پوچھا گیا: اور سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟ فرمایا: جو کم مال والا محنت کر کے صدقہ دے۔ عرض کیا گیا: ہجرت کون سی افضل ہے؟ فرمایا: جو حرام کام سے ہجرت (کنارہ کشی) اختیار کرے۔ پوچھا گیا: پھر جہاد کون سا افضل ہے؟ فرمایا: جو مشرکین سے اپنے جان و مال کے ساتھ جہاد کرنا ہو۔ پوچھا گیا: سب سے افضل قتل کون سا ہے؟ فرمایا: جس کا خون بہایا جائے اور اس کے گھوڑے کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے جائیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1462]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1464] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1449] ، [نسائي 2525، 5001] ، [أحمد 411/3] ، [ترغيب وترهيب 30]
الحكم: إسناده صحيح