بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسجد میں سونے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل مسجد میں سونے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1437 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، مُعْتَمِرٌ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّئلِيِّ ، عَمِّهِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّئلِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، قَالَ: "أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا فِيهِ؟"قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، غَلَبَتْنِي عَيْنِي.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں مسجد (نبوی) میں سویا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور اپنے پائے مبارک سے مجھے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں تمہیں یہاں سوتے نہیں دیکھ رہا ہوں؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میری آنکھ لگ گئی تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1437]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1439] »
اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 6668] ، [موارد الظمآن 1548]
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1438 سنن دارمی
مُوسَى بْنُ خَالِدٍ ، أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ وَلَمْ يَكُنْ لِي أَهْلٌ، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّمَا انْطُلِقَ بِي إِلَى بِئْرٍ فِيهَا رِجَالٌ مُعَلَّقُونَ، فَقِيلَ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى ذَاتِ الْيَمِينِ. فَذَكَرْتُ الرُّؤْيَا لِحَفْصَةَ، فَقُلْتُ: قُصِّيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَصَّتْهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ:"مَنْ رَأَى هَذِهِ؟ قَالَتْ: ابْنُ عُمَرَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"نِعْمَ الْفَتَى أَوْ قَالَ: نِعْمَ الرَّجُلُ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ". قَالَ: وَكُنْتُ إِذَا نِمْتُ لَمْ أَقُمْ حَتَّى أُصْبِحَ. قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي اللَّيْلَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں مسجد نبوی میں سویا کرتا تھا کیونکہ بیوی بچے تھے نہیں، میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ مجھے ایک کنویں کی طرف لے جایا گیا، جس میں آدمی لٹکے ہوئے تھے۔ کہا گیا: ان کو دائیں جانب لے جاؤ (یعنی جنتیوں کی طرف)، میں نے اس خواب کو (اپنی بہن) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا اور درخواست کی کہ اس کو رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کریں، لہٰذا انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کو بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کس نے یہ خواب دیکھا ہے؟ عرض کیا: (میرے بھائی) ابن عمر نے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا ہی اچھا وہ نوجوان ہے یا یہ کہا: کیا ہی اچھا آدمی ہے، کاش وہ رات میں نماز پڑھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں جب سو جاتا تو فجر سے پہلےنہیں اٹھتا تھا۔ راوی نے کہا: اس کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تہجد پڑھنے لگے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1438]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1440] »
اس روایت کی سند جید اور حدیث صحیح ہے، اور اس کے اطراف متعدد مقامات پر بخاری شریف میں موجود ہیں۔ دیکھئے: [بخاري 1121، 1122] ، [مسلم 2479] ، [ابن ماجه 3919] ، [ابن حبان 7071، 7072]
وضاحت
(تشریح احادیث 1436 سے 1438)
اس حدیث سے مسجد میں سونے کا جواز ثابت ہوا، نیز قیام اللیل (تہجد) کی فضیلت معلوم ہوئی اور یہ کہ تہجد عذابِ جہنم سے نجات کا سبب ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ادب و احترام معلوم ہوا، مارے ہیبت کے خود نہیں پوچھا بلکہ اپنی بہن سے درخواست کی کہ اس کی تعبیر پوچھیں۔
«رضي اللّٰه عنهم وأرضاهم.»
الحكم: إسناده جيد