بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اونٹ اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل اونٹ اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1429 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَلَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ، وَأَعْطَانَ الْإِبِلِ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کا وقت ہو جائے اور تمہیں بکریوں اور اونٹ کے باڑے (ان کے بیٹھنے کی جگہ) کے علاوہ اور کوئی جگہ نہ ملے تو بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لو اور اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1429]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1431] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 348، 349] ، [ابن ماجه 768] ، [ابن حبان 1700] ، [موارد الظمآن 336]
وضاحت
(تشریح حدیث 1428)
احکامِ شریعت حکمت و منفعت سے لبریز ہیں۔
مذکورہ بالا حدیث میں جگہ نہ ملنے پر بکریوں کے باڑے میں نماز کی اجازت دی گئی اور اونٹ کے باڑے میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے، اور یہ اس لئے کہ بکریوں سے ضرر کا اندیشہ نہیں اس کے برعکس اونٹ اگر بھڑک جائے تو چوٹ کیا جان تک جانے کا اندیشہ ہے، اور قرآن پاک میں بھی اصول بیان کر دیا گیا: «﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [البقرة: 195] » اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔
قربان جائیں ایسی شریعت حقہ پر جس کا ہر امر اور ہر نہی حکمت سے پُر ہے۔
الحكم: إسناده صحيح