بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نماز میں کنکری ہٹانے کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل نماز میں کنکری ہٹانے کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1425 سنن دارمی
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، مُعَيْقِيبٌ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ لَهُ فِي الْمَسْحِ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ:"إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا، فَوَاحِدَةً". قَالَ هِشَامٌ: أُرَاهُ قَالَ: يَعْنِي: مَسْحِ الْحَصَا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا معیقیب ابن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مسجد میں کنکری ہٹانے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر بہت زیادہ ہی ضروری ہو تو ایک بار۔ ہشام نے کہا: میرا خیال ہے مطلب یہ تھا کہ ایک بار نکریاں ہٹا لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1425]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1427] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1207] ، [مسلم 546] ، [أبوداؤد 946] ، [نسائي 1191] ، [ترمذي 380] ، [ابن ماجه 1026] ، [ابن حبان 2275]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1426 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، أَبِي ذَرٍّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلَا يَمسْحِ الْحَصَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کو کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الٰہی اس کے سامنے ہوتی ہے، لہٰذا وہ کنکری نہ ہٹائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1426]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1428] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 945] ، [ترمذي 379] ، [نسائي 1190] ، [ابن ماجه 1027] ، [ابن حبان 2273] ، [موارد الظمآن 481] ، [الحميدي 128] ، [الطيالسي 445] ، [ابن الجارود 219]
وضاحت
(تشریح احادیث 1424 سے 1426)
ان احادیث سے نماز میں سجدے کی جگہ کو بار بار صاف کرنے کی ممانعت ہے، اگر بہت ہی ضروری ہو اور سجدہ کرنا مشکل ہو تو صرف ایک بار ایسا کرنے کی اجازت ہے، اور یہ اس لئے کہ یکسو ہو کر نماز پڑھے، نمازی کا ذہن ادھر ادھر نہیں بھٹکنا چاہیے اس لئے نماز میں ادھر ادھر التفات و توجہ کرنے، کپڑے سمیٹنے اور بال سدھارنے سے منع کیا گیا ہے۔
مؤمنین کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں اور یکسو ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سب کو اس کی تو فیق بخشے۔
آمین۔
الحكم: إسناده صحيح