بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نماز میں جمائی لینے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل نماز میں جمائی لینے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1420 سنن دارمی
نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَشُدَّ يَدَهُ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يَعْنِي عَلَى فِيهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن ابی سعید نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے، کیونکہ شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یعنی منہ پر ہاتھ رکھ لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1420]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل نعيم بن حماد، [مكتبه الشامله نمبر: 1422] »
اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2995] ، [أبوداؤد 5026، 5027] ، [أبويعلی 1162] ، [ابن حبان 2360]
وضاحت
(تشریح احادیث 1418 سے 1420)
اس روایت میں «فَلْيَشُدَّ» ہے بعض نسخے میں «فَلْيَسُدَّ» اور مسلم کی روایات میں «فَلْيُمْسِكْ» اور «فَلْيَكْظِمْ» کا لفظ ہے جس کے معنی روکنے، پی جانے کے ہیں، یعنی جہاں تک ہو سکے روکے کیونکہ یہ سستی و کاہلی او ثقل کی نشانی ہے، زیادہ مجبور ہو تو منہ پر ہاتھ رکھ لے۔
بعض روایات میں تصریح ہے: «إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ.» یعنی جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو منہ پر ہاتھ رکھ لے، اس لئے کہ اس فعل سے شیطان کو اندر گھسنے اور نماز میں وسوسہ ڈالنے اور بھلانے کا موقع مل جاتا ہے۔
الحكم: إسناده حسن من أجل نعيم بن حماد