بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نماز کے بعد تسبیح کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل نماز کے بعد تسبیح کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1391 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، هِقْلٌ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِقْلٌ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ، بِهَا وَلَيْسَ لَنَا مَا نَتَصَدَّقُ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا أَنْتَ قُلْتَهُنَّ، أَدْرَكْتَ مَنْ سَبَقَكَ، وَلَمْ يَلْحَقْكَ مَنْ خَلَفَكَ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ؟". قَالَ: قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:"تُسَبِّحُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَخْتِمُهَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! امیر لوگ تو سارے اجر و ثواب کو لے گئے، ہم جیسے نماز پڑھتے ہیں وہ بھی نماز پڑھتے ہیں اور جیسے ہم روزہ رکھتے ہیں وہ بھی روزہ رکھتے ہیں، وہ اپنے باقی مانده مال سے صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور ہمارے پاس کچھ ہے ہی نہیں جو صدقہ کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ اگر تم اس کی پابندی کرو گے تو جو تم سے (اجر میں) آگے بڑھ چکے ہیں ان کو پا لو گے اور تمہارے مرتبے تک کوئی نہیں پہنچ سکتا سوائے اس کے جو تمہارے جیسا ہی عمل کرے؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسا عمل ضرور بتایئے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بتایا (وہ عمل یہ ہے) کہ ہر نماز کے بعد تم 33 مرتبہ «سبحان الله» کہو، اور 33 مرتبہ «الحمد لله» کہو، اور 33 مرتبہ «الله اكبر» کہو، اور آخر میں «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْيءٍ قَدِيْر» سے سو کی تکمیل کرو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1391]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1393] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 843] ، [مسلم 595] ، [أبويعلی 6587] ، [ابن حبان 2015]
وضاحت
(تشریح حدیث 1390)
مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ جب لوگوں نے یہ سنا تو امیر و غریب سب نے ایسا ہی شروع کر دیا، فقراء مہاجرین پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے امیر کبیر بھائیوں نے بھی یہ سن کر ایسا ہی عمل شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ , يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ.» یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے نواز دے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1392 سنن دارمی
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: "أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنَحْمَدَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ"، فَأُتِيَ رَجُلٌ أَوْ أُرِيَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْمَنَامِ، فَقِيلَ: أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُوا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ، خَمْسًا وَعِشْرِينَ، وَاجْعَلُوا مَعَهَا التَّهْلِيلَ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:"افْعَلُوهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں ہر نماز کے بعد 33 بار «سبحان الله»، 33 بار «الحمد لله»، 34 بار «الله اكبر» کہنے کا حکم دیا گیا، تو انصار میں سے ایک آدمی کو خواب میں کہا گیا کہ تمہارے پیغمبر نے تم کو ہر نماز کے بعد 33 بار تسبیح کا، 33 بار تحمید کا اور 34 بار تکبیر کا حکم دیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو اس نے کہا: ان کو 25، 25 بار کہو اور 25 بار «لا اله الا الله» کہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس خواب کا تذکرہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایسا ہی کر لو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1392]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1394] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [نسائي 1349] ، [ابن حبان 2017]
وضاحت
(تشریح حدیث 1391)
مومن کا خواب سچا ہوتا ہے لیکن خواب سے شرعی احکام کا ثبوت نہیں ہوتا، یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں دیکھا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے درست قرار دیا جو ہو سکتا ہے الہام یا وحی کے ذریعے سے ہو، بہر حال اس طرح ہر کلمہ 25، 25 بار پڑھنا بھی درست ہے اور 33، 33، 34 بار پڑھنا بھی صحیح ہے اور اس کی بڑی فضیلت ہے۔
الحكم: إسناده صحيح