بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1379 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى يَقُولُ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، فَقَالَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ السَّلَامَ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ:"قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے کہا: ہم نے آپ پر سلام کا طریقہ تو جان لیا، آپ پر درود کس طرح پڑھیں؟ فرمایا: ایسے کہو «(اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ ...... إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ)» اے اللہ! محمد پر اور آلِ محمد پر اس طرح رحم و کرم فرما جس طرح تو نے ابراہیم پر رحم و کرم فرمایا، بے شک تو قابلِ تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! تو محمد اور آلِ محمد کو برکتیں عطا فرما جس طرح تو نے ابراہیم کو برکتیں عطا فرمائیں، تو حمد و ستائش کے لائق اور بزرگی والا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1379]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1381] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6357] ، [مسلم 406] ، [أبوداؤد 976] ، [ترمذي 483] ، [نسائي 1286] ، [ابن ماجه 904] ، [ابن حبان 912] ، [الحميدي 728]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1380 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، مَالِكٌ ، نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ ، أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ الَّذِي كَانَ أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ مَعَنَا فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ أَبُو النُّعْمَانِ بْنُ بَشِيرٍ: أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ:"قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
نعیم مجمر سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ محمد بن عبداللہ بن زید انصاری جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں اذان دینے کا خواب دیکھا تھا (خواب ان کے والد عبداللہ نے دیکھا تھا کما مر و کما فی مسلم)، انہوں نے بتایا کہ سیدنا ابومسعود انصاری عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو سعد بن عبادہ کی مجلس میں ہمارے ساتھ بیٹھ گئے، بشیر بن سعد نے آپ سے عرض کیا جو کہ ابونعمان بن بشیر ہیں: اے اللہ کے رسول! ہم کو الله تعالیٰ نے درود کا حکم دیا ہے، ہم کس طرح آپ پر درود پڑھیں؟ آپ نے فرمایا: اس طرح کہو: «اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيْمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيْمَ فِي الْعَالَمِيْنَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ» اور سلام کا طریقہ تو تم جانتے ہی ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1380]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1382] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المؤطا 70] ، [مسلم 405] ، [أبوداؤد 980] ، [ترمذي 3220] ، [نسائي 1284] ، [ابن حبان 1958، 1959]
وضاحت
(تشریح احادیث 1378 سے 1380)
درود شریف کا جو صیغہ اس حدیث میں مذکور ہے وہ پہلی والی روایت سے قدرے مختلف ہے، معنی دونوں کا ایک ہی ہے، ان میں سے جو چاہے درود پڑھا جا سکتا ہے۔
لیکن صرف وہی صیغہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بروایتِ صحیحہ منقول ہے، اپنی طرف سے بنائے ہوئے درود پڑھنا بدعت و گمراہی ہے، اس سے بچنا از بس ضروری ہے ورنہ ٹھکانا جہنم ہے «(أعاذنا اللّٰه وإياكم منه)» بعض لوگ صحیحین میں وارد درود کو صحیح نہیں کہتے جو سراسر غلط اور صحیحین کی روایات میں تشکیک کی ناروا کوشش ہے۔
الحكم: إسناده صحيح