بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نماز کا کچھ حصہ چھوٹ جائے تو اس بارے میں سنت طریقے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل نماز کا کچھ حصہ چھوٹ جائے تو اس بارے میں سنت طریقے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1372 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، وَحَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَحَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُخْبِرُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ وَأَقْبَلَ مَعَهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، حَتَّى وَجَدُوا النَّاسَ قَدْ أَقَامُوا الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْفَجْرِ وَقَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهِمْ، فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى، فَفَزِعَ النَّاسُ لِذَلِكَ، وَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ لِلنَّاسِ:"قَدْ أَصَبْتُمْ أَوْ قَدْ أَحْسَنْتُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے ہمراہ تھے، دیکھا کہ لوگ فجر کی نماز کھڑی کر چکے ہیں، اور امامت کے لئے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کر دیا ہے، وہ ایک رکعت نماز پڑھا چکے تھے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہنچ گئے تو آپ بھی سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے دوسری رکعت کے لئے صف میں کھڑے ہو گئے، جب سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز مکمل کی تو لوگ گھبرا گئے، سبحان اللہ سبحان اللہ کرنے لگے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو لوگوں سے فرمایا: تم نے صحیح کیا تم نے اچھا کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1372]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1374] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح ہے اور اس کے اطراف صحیحین میں بھی ہیں۔ دیکھئے: [مسلم 274] ، [أبوداؤد 149] ، [نسائي 82] ، [ابن ماجه 545] ، [ابن حبان 2224] ، [موارد الظمآن 371] ، [الحميدي 775]
الحكم: إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 1373 سنن دارمی
مُسَدَّدٌ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ:"فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ يُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأْ إِلَيْهِ بِيَدِهِ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ، فَرَكَعْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقْنَا"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَقُولُ فِي الْقَضَاءِ بِقَوْلِ أَهْلِ الْكُوفَةِ: أَنْ يَجْعَلَ مَا فَاتَهُ مِنْ الصَّلَاةِ قَضَاءً.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو وہ نماز کھڑی کر چکے تھے اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں نماز فجر پڑھا رہے تھے اور رکوع میں جا چکے تھے، اور جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ کیا، پس انہوں نے پوری نماز پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور میں بھی کھڑا ہوا اور ہم سے جو (پہلی) رکعت چھوٹ گئی تھی وہ ہم نے پڑھی۔ ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: فتوے کے اعتبار سے میں اہل کوفہ کے قول کا قائل ہوں کہ جو رکعت چھوٹ گئی وہ قضا کی جائے یعنی قضا مانی جائے گی، اور امام کی ساتھ والی رکعت دوسری ہی ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1373]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1375] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 274/81] ، [ابن حبان 1326]
وضاحت
(تشریح احادیث 1371 سے 1373)
یہ امام دارمی رحمہ اللہ اور اہلِ کوفہ کا قول ہے اور صحیح یہ ہے کہ امام کے ساتھ والی رکعت پہلی رکعت ہوگی اور باقی بالترتیب دوسری یا تیسری۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر مقتدی مسبوق ہو تو وہ اپنی نماز امام کے سلام پھیرنے کے بعد پوری کر لے، نیز اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تحمل اور بردباری و حسنِ اخلاق کا اعلیٰ نمونہ ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھانے پر کسی کو کوئی سرزنش نہیں کی، فداہ ابی وامی صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیرا، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ تاخیر قضائے حاجت کی وجہ سے تھی۔
الحكم: إسناده صحيح