بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جب کھانا سامنے ہو اور اقامت ہو جائے تو کیا حکم ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل جب کھانا سامنے ہو اور اقامت ہو جائے تو کیا حکم ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1315 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر شام کا کھانا سامنے رکھا جائے اور نماز کا (بھی) وقت ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1315]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1317] »
یہ حدیث سنداً و متناً صحیح متفق عليہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 671] ، [مسلم 558] ، [ترمذي 353] ، [ابن ماجه 935] ، [أبويعلی 4431] ، [الحميدي 182، وغيرهم]
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 1316 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا سامنے ہو اور اقامت کہی جائے تو پہلے کھانا کھا لو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1316]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1318] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 671] ، [مسلم 557] ، [أبويعلی 2796] ، [ابن حبان 2066، وغيرهما]
وضاحت
(تشریح احادیث 1314 سے 1316)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نماز کے وقت اگر کھانا تیار ہو اور بھوک لگی ہو تو پہلے کھانے سے فارغ ہو جائیں تاکہ نماز پورے سکون و اطمینان سے ادا کی جائے اور دل و دماغ کھانے میں نہ لگار ہے۔
یہ اسلام کی رحمت و برکت ہے۔
الحكم: إسناده صحيح