بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بارش یا سفر میں جماعت چھوڑنے کی اجازت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل بارش یا سفر میں جماعت چھوڑنے کی اجازت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1309 سنن دارمی
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ نَزَلَ بِضَجْنَانَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ، ثُمَّ أَخْبَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ"إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ أَوْ الْمَطَرِ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سرد رات میں مقام ضجنان پر پڑاؤ ڈالا تو موذن کو حکم دیا کہ کہے: «الصلاة فى الرحال» یعنی نماز اپنے اپنے خیموں میں پڑھ لو، پھر بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور رات ٹھنڈی ہوتی یا بارش ہو جاتی تو موذن کو حکم دیتے کہ وہ منادی کر دے کہ «الصلاة فى الرحال» (ایک نسخہ میں ہے آپ نے خیمہ کے اندر نماز پڑھی)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1309]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1311] »
اس حدیث کی سند صحیح اور متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 632] ، [مسلم 697] ، [أبويعلی 5673] ، [ابن حبان 2076]
وضاحت
(تشریح حدیث 1308)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بہت سردی یا بہت بارش میں اپنی جگہ پر نماز ادا کی جا سکتی ہے، ان دونوں عذروں کے بغیر نماز گھر، دوکان یا خیمہ کے اندر پڑھنا اور جماعت ترک کر دینا درست نہیں ہے۔
الحكم: إسناده صحيح