بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
امامت کرانے کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل امامت کرانے کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1287 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِي وَنَحْنُ شَبَبَةٌ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفِيقًا، فَلَمَّا رَأَى شَوْقَنَا إِلَى أَهْلِينَا، قَالَ: "ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَكُونُوا فِيهِمْ، فَمُرُوهُمْ وَعَلِّمُوهُمْ، وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنی قوم (بنی لیث) کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ہم سب ہی نوجوان تھے اور ہم نے بیس دن آپ کے پاس قیام کیا، آپ بڑے نرم دل تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اہل و عیال کے پاس چلے جانے کا ہمارا اشتیاق دیکھا تو فرمایا: جاؤ اپنے اہل و عیال کے پاس چلے جاؤ اور ان کے ساتھ رہو، انہیں بتاؤ اور سکھاؤ اور ویسے ہی نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے کوئی تمہارے لئے اذان دے پھر تم میں جو سب سے بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1287]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1288] »
یہ حدیثت صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 628] ، [مسلم 672] ، [ابن حبان 1658] ، [بيهقي فى المعرفة 5895]
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 1288 سنن دارمی
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تین آ دمی جمع ہو جائیں تو ان میں سے ایک جو سب سے زیا دہ (قرآن) پڑھا ہو وہی ان کی امامت کا حقدار ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1288]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1289] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 672] ، [نسائي 781] ، [مسند أبى يعلی 1291] ، [ابن حبان 1232]
وضاحت
(تشریح احادیث 1286 سے 1288)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو وہ امامت کرانے کا حق دار ہے۔
[مسلم شريف 672] میں تفصیل سے ہے کہ امامت جو سب سے زیادہ قرآن کا قاری ہو وہ کرائے، اور سب ہی ایک جیسے ہوں تو جو سب سے زیادہ حدیث کا علم رکھتا ہے وہ نماز پڑھائے، اس میں بھی سب برابر ہوں تو جو ہجرت کے اعتبار سے سب پر مقدم ہو وہ امامت کرائے۔
إلخ۔
الحكم: إسناده صحيح