بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نماز شروع کرنے کی کیفیت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل نماز شروع کرنے کی کیفیت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1270 سنن دارمی
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، بُدَيْلٌ الْعُقَيْلِيُّ ، أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ الْعُقَيْلِيُّ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ، وَيَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ ب الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، وَيَخْتِمُهَا بِالتَّسْلِيمِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز تکبیر سے شروع کرتے تھے، اور قرأت «‏‏‏‏الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ‏‏‏‏ سے شروع کرتے تھے، اور نماز کا اختام تسلیم سے کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1270]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف جعفر بن عون متأخر السماع من ابن أبي عروبة. وبديل هو: ابن ميسرة غير أن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1272] »
اس حدیث کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے یہ حدیث صحیح ہے، جس کے اطراف متفرق طور پر صحاح ستہ میں موجود ہیں۔ دیکھئے: [بخاري 743] ، [مسلم 399] ، [أبوداؤد 783] ، [ابن ماجه 812] ، [أبويعلی 2881] ، [ابن حبان 1798] ، [الحميدي 1233]
وضاحت
(تشریح حدیث 1269)
یعنی نماز کی ابتداء تکبیرِ تحریمہ سے اور قرأت الحمد للہ سے شروع کرتے تھے، اور اختتام کے وقت السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتے تھے، ایک اور حدیث میں ہے: نماز کی کنجی وضوء ہے، تحریم اس کی تکبیر، و تحلیل تسلیم ہے، یعنی اللہ اکبر کہنے کے بعد عام كلام حرام ہو جاتا ہے اور سلام پھیرنے کے بعد حلال ہوتا ہے۔
«يفتتح القرأة بالحمد للّٰه رب العالمين» سے «بسم اللّٰه الرحمٰن الرحيم» جہرانہ پڑھنا ثابت ہوا، تفصیل حدیث نمبر 1274 کے ضمن میں آرہی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف جعفر بن عون متأخر السماع من ابن أبي عروبة. وبديل هو: ابن ميسرة غير أن الحديث متفق عليه