بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اذان کے وقت دعا کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل اذان کے وقت دعا کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1234 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، مُوسَى هُوَ ابْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ ، أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ ، سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَنَا مُوسَى هُوَ ابْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ أَوْ قَلَّ: مَا تُرَدَّانِ: الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ، وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يُلْحِمُ بَعْضُهُ بَعْضًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو (وقت) دعائیں رد نہیں کی جاتی ہیں یا کم رد کی جاتی ہیں۔ ایک تو اذان کے وقت کی دعا، دوسرے لڑائی کے وقت جب لوگ ایک دوسرے سے بھڑ جاتے (برسرِ پیکار ہوتے) ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1234]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1236] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ أبوداؤد 2540] ، [المنتقي 1065] ، [المعجم الكبير 5756] ، [ابن خزيمه 419] ، [الحاكم 198/1] و [البيهقي 410/1] وغيرهم۔
وضاحت
(تشریح حدیث 1233)
اس حدیث سے دعا کی قبولیت کے اوقات معلوم ہوئے، اذان کے بعد اور میدانِ جنگ میں قتال کرتے وقت دعا کی قبولیت کے اوقات ہیں۔
اس کے علاوہ فجر کی اذان سے پہلے اور جمعہ کے دن عصر سے مغرب کی اذان تک یہ اوقات بھی دعا کی قبولیت کے ہیں، جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
الحكم: إسناده حسن