بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اذان دہری اور اقامت اکہری کہنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل اذان دہری اور اقامت اکہری کہنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1226 سنن دارمی
سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، شُعْبَةُ ، أَبُو جَعْفَرٍ ، مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ:"كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَالَ: قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ: فَإِذَا سَمِعْنَا الْإِقَامَةَ، تَوَضَّأَ أَحَدُنَا وَخَرَجَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد (مبارک) میں اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت (کے کلمات) ایک ایک بار کہے جاتے تھے، ہاں جب قد قامت الصلاۃ پر آتے تو اس کو دو بار کہتے، لہٰذا جب ہم اقامت سنتے تو ہم میں سے (ہر) کوئی وضو کرتا اور گھر سے باہر آ جاتا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1226]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1229] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 510] ، [نسائي 627] ، [صحيح ابن حبان 1674] ، [الموارد 290]
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 1227 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، وَعَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَعَفَّانُ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: "أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہیں اور اقامت میں ایک مرتبہ۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1227]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1230] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 603] ، [مسلم 378] وغيرهما۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1228 سنن دارمی
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: "أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ إِلَّا الْإِقَامَةَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: بلال کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1228]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1231] »
اس روایت کی تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1229 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، خَالِدٍ ، أَبِي قِلابَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1229]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: ] »
اس روایت کی تخریج بھی اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1225 سے 1229)
ان تمام روایاتِ صحیحہ سے ثابت ہوا کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہے جا ئیں گے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ایسا ہی حکم دیا تھا، بعض روایات میں اقامت (یعنی تکبیر) کے کلمات بھی اذان کی طرح دو دو بار کہنا مروی ہے، لیکن اکہری اقامت کہنے کی روایت اصح اور متفق علیہ ہے۔
واللہ اعلم