بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
فجر کی اذان کا وقت
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل فجر کی اذان کا وقت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1223 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَرْفَعُهُ قَالَ:"إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سالم نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر) سے روایت کیا وہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ بلال تو رات میں اذان دیتے ہیں، اس لئے تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ام مکتوم کے بیٹے اذان دیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1223]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1226] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 617] ، [مسلم 1092] ، [أبويعلی 5432] ، [ابن حبان 3469] ، [الحميدي 623] وغيرهم۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1224 سنن دارمی
إِسْحَاقُ ، عَبْدَةُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهِ عَنْهُمَا، وَعَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ: بِلَالٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ". فَقَالَ الْقَاسِمُ: وَمَا كَانَ بَيْنَهُمَا إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا، وَيَرْقَى هَذَا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو مؤذن تھے، بلال اور ام مکتوم کے بیٹے، چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلال تو رات رہتے ہوئے اذان دیتے ہیں، سو تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو۔ قاسم نے کہا: ان دونوں کی اذانوں میں اتنا وقفہ تھا کہ ایک اترتے اور دوسرے (اذان کے لئے) چڑھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1224]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «حديث ابن عمر متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1227] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 622] ، [مسلم 1092/38] و [صحيح ابن حبان 3473]
وضاحت
(تشریح احادیث 1223 سے 1224)
عہدِ رسالت میں دستور تھا کہ سحری یا تہجد کی اذان سیدنا بلال رضی اللہ عنہ دیا کرتے تھے اور فجر کی اذان سیدنا عبداللہ ابن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ دیتے تھے۔
عہدِ خلافت میں بھی یہی دستور رہا اور آج تک چلا آ رہا ہے، لہٰذا یہ سحری اور تہجد کی اذان کا واضح ثبوت ہے۔
الحكم: حديث ابن عمر متفق عليه